اردو ویب سائٹس کی تعداد کم کیوں ہیں؟

1,077

انٹرنیٹ پر اس وقت کتنی ویب سائٹس آن لائن ہیں، یہ بات حتمی طور پر کوئی نہیں جانتا۔ مگر ایک محتاط اندازے کے مطابق ویب سائٹس کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کرچکی ہے۔کیون کیلی جو Wired میگزین کے بانی ایڈیٹر ہیں، What Technology Wants میں لکھتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر کم از کم ایک ہزار ارب ویب پیجز موجود ہیں۔ جبکہ انسانی دماغ میں نیورونز کی تعداد ایک سو ارب ہوتی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے ہی ICANN نے سیکڑوں نئے TLD یا ٹاپ لیول ڈومین استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ جس کے بعد افراد اور ادارے اپنے کام کی نوعیت کے مطابق ڈومین نیم منتخب کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر سول انجینئرنگ اور تعمیر کے کاروبار سے وابستہ لوگ و ادارے .builders کا اور ریئل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والے .properties کا ٹاپ لیول ڈومین خرید سکتے ہیں۔ صرف .com جیسے عام ٹاپ لیول ڈومین کی وجہ سے منفرد ڈومین نیم منتخب کرنا مشکل بن گیا تھا اور اس کی وجہ سے نئی ویب سائٹس بننے کا عمل جمود کا شکار ہورہا تھا۔ نت نئے ٹاپ لیول ڈومین آجانے سے اگلے چند سالوں میں ویب سائٹس کی تعداد میں زبردست اضافے کی پیش گوئی ہے۔ تاہم بدقسمتی سے یہ اضافہ انگریزی اور دیگر عالمی زبانوں کے لئے محدود ہے، اُردو اس سارے عمل کے ثمرات سے محروم ہے۔

انٹرنیٹ پر اس وقت اُردو ویب سائٹس کی تعداد انتہائی محدود ہے۔ اُردو ویب سائٹ کا مالک ہونا یا اُردو میں بلاگ لکھنا ایک نرالی بات سمجھی جاتی ہے۔ پہلے یہ شکایت تھی کہ خوبصورت اُردو فونٹ دستیاب نہیں اور تصویری اُردو والی ویب سائٹ بنانا مشکل کام ہے۔ پھر اُردو کلیدی تختہ یعنی کی بورڈ بھی بامشکل دستیاب تھا۔ ونڈوز وِستا اور اس کے بعد آنے والے آپریٹنگ سسٹم میں اُردو کی بہترین حمایت (سپورٹ) نے اس مشکل کو آسان بنایا۔ نت نئے خوبصورت اُردو نستعلیق فونٹس کی ایک پوری نسل دستیاب ہوئی اورمنٹوں میں اپنی مرضی کا اُردو کلیدی تختہ تیار کرنا ممکن ہوگیا۔ لیکن اس کے باوجود اُردو ویب سائٹس کی تعداد میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا۔ آخر اس کی وجہ کیا تھی؟

ہماری ناقص رائے میں اس کی بڑی وجہ اُردو ویب سائٹس کا کمائی کے معاملے میں بے کار ثابت ہونا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ویب سائٹس بنا کر اس سے پیسے کمانا ایک پیشہ ہے اور بلاگرز تک کمائی کی غرض سے بلاگ بناتے ہیں۔ ہزاروں لوگ یہ کام کل وقتی طور پر کرتے ہیں۔ کوئی ویب سائٹ کمائی کے قابل اسی وقت ہوتی ہے جب اسے ملاحظہ کرنے لوگ آئیں، اور لوگ اسی وقت آتے ہیں جب مواد دلچسپ، معلوماتی اور مفید ہو۔ ویب سائٹ کے لئے مواد تیار کرنا ایک محنت طلب کام ہے۔ یہ کسی ملازمت جیسا ہی کام ہے جس کا معاوضہ ملانا چاہیے۔ انگریزی اور دیگر یورپی زبانوں میں ہر موضوع پر مواد اسی لئے مل جاتا ہے کہ ویب سائٹ مالکان پیسے کمانے کے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ تر مواد لکھتے یا لکھواتے ہیں۔

اُردو ویب سائٹس کو کمپنیوں کی جانب سے اشتہارات ملتے ہیں نہ گوگل ایڈ سینس جیسے پروگرام میں انہیں شامل کیا جاتا ہے۔ جن اُردو ویب سائٹس پر اس وقت گوگل ایڈ سینس کے اشتہارات چل رہے ہیں، ان کی تعداد انگلیوں پر گِنی جاسکتی ہے۔ پھر اِکا دُکا سر پھرے ہی بچتے ہیں جو کسی مالی فائدے کی چاہت کے بغیر اُردو میں مواد تیار کرتے ہیں۔ یہ کسی مشقت سے کم نہیں کہ معاوضہ بھی نہیں ملتا اور کام بھی مزدور کی طرح کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں اُردو ویب سائٹس کا نہ بننا کوئی اچنبھے کی بات نہیں!!!

یہاں ہم اپنے ایک دوست نصیر حیدر کا 2007 میں کمپیوٹنگ کی اشاعت پر کیا ایک تبصرہ آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں :

’’میں جانتا ہوں کہ بے ادبی کے اس دور میں اگر یہ سائنسی جریدے کی بجھائے فلمی رسالہ نکالتے تو شاید انھیں ہزاروں کی ایڈوٹائزمنٹ مل جاتی ،لاکھوں کا منافع متوقع ہوتااور شاید
ریسرچ کی ضرورت بھی نہ ہوتی ۔
لیکن انھوں نے دشوار رستے کا انتحاب کیا۔
شاید انھیں یقین ہے
کہ
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
امانت بھائی، علمدار بھائی
ہم نہ صرف آپ کے لئے دعاگو ہیں بلکہ اس مشن میں آپ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلیں گے۔‘‘