انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کیسے کمائیں

464,527

یہ سوال اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی انٹرنیٹ سے پیسے کمانا ممکن ہے؟ یا پھر یہ ایک فراڈ ہے؟اس سوال کا جواب اس بات منحصر ہے کہ آپ انٹرنیٹ سے پیسے کمانا کیسے چاہتے ہیں۔ اگر تو آپ یہ چاہتے ہیں کہ بغیر محنت کے چند گھنٹوں میں آپ سیکڑوں ڈالر کما لیں گے تو یقینا ایسا ممکن نہیں ہے۔

انٹرنیٹ پر براؤزنگ کرتے ہوئے، فیس بک پر، ٹوئٹر پر، حتیٰ کہ اخبارات میں بھی آپ کو ایسے اشتہارات نظر آتے ہوں گے کہ گھر بیٹھے چند گھنٹے کام کریں اور ہزاروں روپے کمائیں۔ پاکستان کے خراب معاشی حالات میں ایسے اشتہارات انتہائی خوش کن محسوس ہوتے ہیں اور لوگ ان کے جھانسے میں بہت آسانی سے آجاتے ہیں۔
یہ مضمون ہم نے ایسے ہی تمام سوالات جو انٹرنیٹ سے کمائی کے حوالے سے آپ کے ذہن میں ہوسکتے ہیں، کے مدلل جوابات دینے کے لئے تحریر کیا ہے ۔

انٹرنیٹ سے کمائی ایک فراڈ ہے یاگر؟

انٹرنیٹ سے بغیر محنت پیسے کمانا ناممکن ہے۔ کوئی ویب سائٹ یا کوئی شخص آپ کو مفت میں پیسے نہیں دے گی۔ اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ کسی لنک پر دن میں فلاں تعداد میں کلک کرنے سے آپ اتنے پیسے کما لیں گے یا فلاں ویب سائٹ کا لنک شیئر کرنے سے آپ کو پیسے ملیں گے، تو وہ آپ سے جھوٹ بول رہا ہے۔ اس کام کا مقصد کسی ویب سائٹ یا پراڈکٹ کی مشہوری تو ہوسکتا ہے، لیکن کمائی نہیں۔ ساتھ ہی اخبار میں نظر آنے والے ان انسٹی ٹیوٹس کے اشتہارات جن میں گھر بیٹھے کمائی کے گر سکھانے کے کورس کرائے جاتے ہیں، دراصل فراڈ ہی ہیں۔ ان جعلی اداروں میں آپ صرف کورس فیس کے نام پر صرف اپنا پیسہ ضائع کرتے ہیں، جب کہ حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ فائدہ صرف ان ادارے کے چلانے والوں کو ہوتا ہے جو با آسانی اچھی خاصی رقم بٹور لیتے ہیں۔

اگر آپ انٹرنیٹ کے ذریعے کمائی کرنا چاہتے ہیں تو نہ صرف یہ مضمون بلکہ اس میں دیے جگہ جگہ دیے گئے لنکس پر موجود تمام مضامین بھی اگر آپ پڑھیں تو انشا اللہ آپ کے ذہن میں اس حوالے سے موجود تمام سوالوں کے جواب باآسانی مل جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: بنا دھوکا آن لائن کمائی کے جائز ذرائع

یہ بھی پڑھیے: سوشل میڈیا سے پیسے کمائیں

ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ان اداروں میں سب سے زیادہ فراڈ ’’گوگل ایڈ سینس‘‘ کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت گوگل ایڈ سینس لاکھوں لوگوں کی کمائی کا ذریعہ ہے۔ لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو کوئی فراڈ نہیں کررہے اور نہ ہی کوئی غیر قانونی کام۔ بلکہ اپنی محنت اور کوشش سے ایڈ سینس سے پیسے کما رہے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں چلنے والے جعلی ادارے گوگل ایڈ سینس کو آسان کمائی کا ذریعہ بتا کر لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں۔ ان اداروں کا طریقہ کار کچھ یوں ہوتا ہے کہ یہ آپ کو پہلے پہل تو کنفرم ایڈ سینس اکائونٹ فروخت کرکے پیسے وصول کرتے ہیں۔ اگرچہ آپ خود رجسٹریشن کروا کر ایک کنفرم اکائونٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن یہاں بھی لوگوں کی سستی آڑے آجاتی ہے اور وہ جلدی کے چکر میں انہی لوگوں سے کنفرم اکاؤنٹ خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پھر ویب سائٹ بنانے کا طریقہ سکھا کر اس کی فیس وصول کی جاتی ہے اور اگر کوئی یہ نہ سیکھنا چاہے، تو اسے ویب سائٹ بنا کر دینے کے پیسے لیئے جاتے ہیں۔ یہ ویب سائٹس اکثر فری ہوسٹنگ سروس دینے والی ویب سائٹس پر ہوسٹ کی جاتی ہیں۔ کچھ انسٹی ٹیوٹ ہوسٹنگ اور ڈومین بھی فروخت کرتے ہیں اور معصوم لوگوں سے مزید پیسے اینٹھتے ہیں۔ اس طرح صارف کو کافی پیسے خرچ کرنے کے بعد ایک ایڈ سینس اکائونٹ اور ویب سائٹ ملتی ہے جس پر لگے ایڈ سینس اشتہارات پر اسے دن رات کلک کرنا ہوتا ہے اور یار دوستوں سے بھی کلک کروانے پڑتے ہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چند دنوں یا ہفتوں بعد گوگل کی جانب سے صارف کا گوگل ایڈ سینس اکائونٹ بلاک کردیا جاتا ہے کیونکہ خود اپنی ویب سائٹ پر لگے اشتہارات پر کلک کرنا یا کروانا نا قابل قبول ہے۔ اپنی ذات کو دھوکا دینا بہت آسان ہے لیکن گوگل کو نہیں۔ گوگل ایڈ سینس کی کامیابی کا راز ہی اس کا فراڈ پکڑنے کا نظام ہے جو بہت بڑی آسانی سے خود کیئے جانے والے کلک شناخت کرلیتا ہے۔ ایک با ربلاک کیا جانے والا اکائونٹ شاید ہی کبھی دوبار فعال کیا جاتا ہے۔ اس طرح صارف کے لئے گوگل ایڈ سینس شجر ممنوعہ بن جاتا ہے اور انٹرنیٹ سے کمائی کا یہ باب ہمیشہ کے لئے بند ہوجاتا ہے۔

جانیے ایڈسینس کے حوالے سے دھوکے بازوں سے کیسے محفوظ رہیں

انٹرنیٹ سے کمائی ممکن ہے

بالکل، انٹرنیٹ سے پیسے کمانا یا انٹرنیٹ پر نوکری یا کاروبار کرنا ایک حقیقت ہے اور یہ نہ صرف آپ کے لئے ایک باعزت کمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ عام نوکری یا کاروبار سے کئی گناہ زیادہ کماکر بھی دے سکتا ہے۔انٹرنیٹ نے دنیا کو آپ کے کمپیوٹر میں سمیٹ دیا ہے جس کا فائدہ اٹھانا آپ کے اپنے ذہن پر منحصر ہے۔ انٹرنیٹ سے کروڑوں لوگوں کا کاروبار وابستہ ہے اور وہ اس سے براہ راست یا بالواسطہ کما رہے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ ہر کام کی طرح یہ بھی محنت طلب ہے اور آپ کی بھرپور توجہ چاہتا ہے۔ ہم یہاں امکانات لکھ رہے ہیں جو آپ کو انٹرنیٹ سے کمانے میں مدد کریں گے لیکن یہ فیصلہ آپ نے اپنی ذات کا سامنے رکھ کر خود کرنا ہے کہ آپ کو کون سا کام کرنا چاہئے۔

ایڈ سینس سے پیسے کمائیں

آپ نے اکثر نوٹس کیا ہوگا کہ جب آپ کوئی لفظ لکھ کر گوگل پر تلاش کرتے ہیں تو یہ اس لفظ سے متعلق اشتہارات بھی اسکرین کے دائیں جانب اور نتائج سے اوپر دکھاتا ہے۔ یہ اشتہارات دکھانے کے لئے ان ویب سائٹ کے مالکان، گوگل کے پروگرام AdWords کے ذریعے گوگل کو پیسے دیتے ہیں۔ گوگل اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ان ویب سائٹ مالکان کے اشتہارات اپنے سرچ رزلٹس کے صفحات پر دکھا کر کماتا ہے۔گوگل اس کمائی میں صرف اکیلا حصے دار نہیں۔ آپ بھی گوگل ایڈ سینس کے ذریعے یہ اشتہارات اپنی ویب سائٹ پر دکھا کر اپنا حصہ وصول کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: آن لائن کمائی کے لیے دس بہترین ایپلی کیشنز

گوگل نے یہ پروگرام 18جون 2003ء کو شروع کیا تھا اور گوگل ایڈسینس بلا شبہ انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کا اس وقت سب سے زیادہ کارآمد طریقہ ہے۔ اگر ایڈ سینس کا صحیح طرح سے استعمال کیا جائے تو یہ آپ کی مستقل آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن شرط ایمانداری کی ہے کیونکہ گوگل اس وقت تک تنگ نہیں کرتا جب تک اسے تنگ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

ایڈ سینس کے کام کرنے کا طریقہ بھی سادہ ہے۔ آپ کو ایک ویب سائٹ بنانی ہے اور اسے قابل قبول طریقوں جیسے سرچ انجن آپٹمائزیشن کے ذریعے زیادہ سے زیادہ صارفین تک پہنچانا ہے تاکہ وہ آپ کی ویب سائٹ کا دورہ کریں اور گوگل ایڈ سینس کے دکھائے ہوئے اشتہارات پر کلک کریں۔ ہم تمام مراحل یہاں مرحلہ وار تحریر کررہے ہیں۔

٭ … گوگل ایڈ سینس پر رجسٹریشن کروانے سے پہلے آپ کو اپنی ایک ویب سائٹ تیار کرنی ہے۔ یہ ویب سائٹ کسی بھی دلچسپ موضوع کے حوالے سے ہوسکتی ہے۔ ویب سائٹ کی زبان بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ انگلش یا یورپ میں بولی جانے والی زبانوں کے علاوہ زبانوں میں بنائی گئی ویب سائٹس گوگل ایڈ سینس سے کچھ خاص نہیں کما پاتیں۔ اس لئے ویب سائٹ کی زبان کا فیصلہ بھی سوچ سمجھ کر کریں۔ ویب سائٹ جاذب نظر اور کارآمد ہونی چاہئے تاکہ صارف اس ویب سائٹ پر زیادہ سے زیادہ آئیں۔ یاد رہے کہ کسی دوسری ویب سائٹ سے مواد چوری کرکے آپ گوگل کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ اس لئے ویب سائٹ پر موجود مواد اصل اور انوکھا ہونا چاہئے۔

اگر آپ کے لئے خود ویب سائٹ بنانا ممکن نہیں لیکن ایک اچھی ویب سائٹ کا خاکہ آپ کے ذہن میں ہے توآپ پاکستان میں موجود سینکڑوں ویب سائٹس بنانے والے چھوٹے بڑے سافٹ ویئر ہائوسز یا پھر کسی اچھے ڈیزائنر /ڈیویلپر سے ویب سائٹ بنوا سکتے ہیں۔ اس میں آپ کو یقینا پیسے خرچ کرنے ہوں گے لیکن یہ بھی تو سوچیں کہ شاید ہی کوئی ایسا کاروبار ہو جس میں ابتدائی سرمایہ کاری نہ کرنی پڑتی ہو۔
آج کل صرف ویب سائٹس ہی نہیں بلکہ بلاگز (Blogs) بھی گوگل ایڈ سینس کے لئے بڑی تعداد میں استعمال ہوتے ہیں۔ اگر آپ اچھا لکھ سکتے ہیں اور کسی خاص موضوع پر ویب سائٹ بنانے کے جھنجٹ سے بھی چھٹکارا چاہتے ہیں تو پھر بلاگ ہی بنا لیں۔ یہ بلاگ wordpress.com پر بھی ہوسکتا ہے یا پھر Blogger.com پر بھی۔ نیز، اپنی ہوسٹنگ خرید کر بھی ورڈ پریس وغیرہ انسٹال کرکے بلاگ بنایا جاسکتا ہے۔

(بلاگنگ کیا ہے اور مفت بلاگ کیسے بنائیں)

ویب سائٹ کی تکمیل کے بعد کچھ عرصہ اس کی تشہیر بھی ضروری ہے تاکہ وزیٹرز کی تعداد بڑھائی جاسکے۔ آپ یہ کام فیس بک یا ٹوئٹر کی مدد سے کر سکتے ہیں۔ جہاں موجود آپ کے دوست اور Followers ویب سائٹ کی ٹریفک بڑھانے میں بہت معاون ثابت ہوں گے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ویب سائٹ بنانے کے کم از کم چھ ماہ تک آپ کو گوگل ایڈ سینس پر رجسٹریشن کے لئے درخواست جمع نہیں کروانی چاہیے۔ گوگل کا پاکستانی ویب ماسٹرز کی درخواست کو رد کردینا معمول کی بات ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ رد ہونے سے بچنے کے لئے ویب سائٹ کو پہلے اچھی طرح تیار کرلیں۔

٭…دوسرے مرحلے میں آپ نے گوگل ایڈ سینس پر رجسٹریشن کروانی ہے۔ رجسٹریشن کے دوران پوچھی گئی معلومات کی درست فراہمی ہی آپ کے مفاد میں ہے۔ رجسٹریشن پوری ہونے کے بعد آپ کا اکائونٹ فوراً فعال نہیں کردیا جاتا بلکہ آپ کی درخواست جانچ پڑتال کے لئے متعلقہ فرد یا پھر کمپیوٹر پروگرام کو بھیج دی جاتی ہے جو اس بات کا تجزیہ کرتا ہے کہ آیا آپ کی ویب سائٹ گوگل ایڈ سینس کے اشتہارات چلانے کے لائق ہے کہ نہیں۔ اگر آپ کی ویب سائٹ مکمل ہے اور ایڈ سینس کے قواعد کے مطابق ہے تو پھر آپ کی درخواست ضرور قبول کرلی جائے گی۔ اگر درخواست ناقابل قبول ہو تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ آپ اپنی ویب سائٹ کو مزید بہتر بنائیں اور دوبارہ درخواست دے دیں۔
٭…درخواست کی قبولی کے بعد آپ ایڈ سینس کے اشتہارات کا کوڈ حاصل کرسکتے ہیں۔ اپنی مرضی و منشا اور ویب سائٹ کی ضرورت کے مطابق اشتہارات کا سائز منتخب کریں اور ویب سائٹ پر ایسی جگہ لگائیں جہاں یہ ویب سائٹ پر آنے والوں کی نظروں کے سامنے بھی رہیں اور ویب سائٹ کا حلیہ بھی خراب نہ کریں۔ عموماً اشتہارات دائیں طرف یا پھر ویب سائٹ کے بینر کے قریب لگائیں جاتے ہیں۔

٭… آپ کا کام یہیں ختم نہیں ہوجاتا۔ اب آپ کو اپنی ویب سائٹ اپ ڈیٹ رکھنی ہے تاکہ وزیٹرز کی تعداد کم نہ ہونے پائے۔ جتنا ٹریفک آپ کی ویب سائٹ پر آئے گا، آپ کی آمدنی میں اضافے کے امکانات بھی اسی تناسب سے زیادہ ہوں گے۔ اگر جیب اجازت دے تو گوگل ایڈ ورڈ کے ذریعے خود بھی اپنی ویب سائٹ کا اشتہار دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

یہ بات یاد رکھیں کہ ویب سائٹ بنا کر اسے گوگل ایڈ سینس سے قابل قدر کمائی کا ذریعہ بننے میں ضرور وقت لگتا ہے۔ یہ چند ماہ بھی ہوسکتے ہیں اور چند سال بھی۔ تمام تر انحصار آپ کی اپنی محنت اور لگن پر ہے۔ چند دنوں میں پیسوں کا ڈھیر نہیں لگ سکتا۔ نیز، یہ امید رکھنا کہ ہزاروں ڈالر ماہانہ آمدن شروع ہوجائے گی، بھی غیر معقول ہے۔ ایسے ویب سائٹ مالکان ضرور موجود ہیں، جو حقیقتاً ہزاروں ڈالر ماہانہ ایڈ سینس سے کما لیتے ہیں لیکن ان کی ویب سائٹس پر ٹریفک بھی لاکھوں کی تعداد میں ہوتا ہے۔ اگر آپ گوگل ایڈ سینس سے اپنی ویب سائٹ کے روز مرہ اخراجات نکال کر چند سو ڈالر کما لیتے ہیں تو یہ بہترین ہے۔

٭… گوگل ایڈ سینس سے کمائے گئے پیسے $100یا اس سے زائد ہوجانے پر منگوائے جاسکتے ہیں۔ سو ڈالر سے کم پیسے گوگل نہیں بھیجتا۔
یہ تو ذکر تھا گوگل ایڈ سینس کا، اب ہم آپ کو انٹرنیٹ سے کمائی کو ایک اور طریقہ بتاتے ہیں اور یہ طریقہ ہے فری لانسنگ (Freelancing)۔

فری لانسنگ

اگر آپ ویب ڈیویلپر ہیں، کوئی پروگرامنگ لینگویج جانتے ہیں، کسی اہم سافٹ ویئر پر مکمل عبور رکھتے ہیں، انگلش اچھی بول سکتے ہیں، ٹائپنگ بہت تیزی سے کرسکتے ہیں، ٹربل شوٹنگ کرسکتے ہیں، اکاوئنٹنگ اچھی جانتے ہیں، مضامین یا پریس ریلیز لکھ سکتے ہیں الغرض کسی بھی کام میں مہارت رکھتے ہیں تو آپ ’’ فری لانسنگ‘‘ کرسکتے ہیں۔

امریکی اور یورپی کمپنیاں یا فرد وہاں کے مقامی افراد کو کسی کام یا پروجیکٹ کے لئے نوکری پر رکھیں تو انہیں اس کی تنخواہ کے علاوہ کئی اخراجات برداشت کرنے ہوتے ہیں۔ کئی کمپنیاں تو ایسی بھی ہیں جن کے آفس برائے نام ہی ہوتے ہیں اور وہ کوئی فرد نوکری پر رکھنے کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔ ایسے میں وہ کمپنیاں یا افراد سستے ممالک جیسے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، چین اور فلپائن میں موجود آن لائن کام کرنے والے افراد کو وہ کام ’’آئوٹ سورس(Outsource)‘‘ کردیتے ہیں جو یہ کام دور بیٹھے ہی بہت احسن طریقے سے کر دیتے ہیں۔ اس طرح کام دینے والے کو بھی بچت ہوتی ہے اور کام کرنے والے کو بھی اپنے کام کا مقامی مارکیٹ کے مقابلے میں اچھا معاوضہ مل جاتا ہے۔

انٹرنیٹ اور کمپیوٹر میں ہونے والے ترقی اور تبدیلیوں نے آئوٹ سورسنگ کو ایک انڈسٹری کی شکل دے دی ہے اوراس وقت آئوٹ سورسنگ اور فری لانسنگ اربوں ڈالر کی  انڈسٹری بن چکا ہے۔ بھارت اور فلپائن کی سافٹ ویئر انڈسٹری میں کمائے جانے والے زرمبادلہ کاایک بڑا حصہ آئوٹ سورس کئے گئے کاموں سے آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: فاریکس ٹریڈنگ سیکھیں

آئی بی ایم ہو یا انٹل، ڈیل ہو یا جنرل الیکٹرک، سب ہی اپنے اخراجات کم کرنے کے لئے مستقل ملازم رکھنے کے بجائے آئوٹ سورسنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ سینکڑوں مشہور امریکی اور یورپی کمپنیوں کے کسٹمر سپورٹ سینٹر یا کال سینٹر بھارت، فلپائن ، پاکستان یا بنگلہ دیش میں موجود ہیں جو فی کال چند ڈالر یا معاہدے کے مطابق معاوضہ وصول کرتے ہیں اور ان کمپنیوں کے لئے لاکھوں ڈالر سالانہ بچاتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے بیشتر سافٹ ویئرہاؤس  آئوٹ سورس کئے گئے کام ہی کرتے ہیں۔

آپ یقینا سوچ رہے ہوں گے کہ آپ کیسے سافٹ ویئر ہائوس یا کال سینٹر کھولیں گے۔ لیکن جناب فری لانسنگ کرنے کے لئے آپ کو صرف ایک کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور صلاحیت کی ضرورت ہے۔ نیز، جیسا کہ ہم نے پہلے کہا، آپ تقریباً ہر کام انٹرنیٹ پر کرسکتے ہیں لیکن زیادہ تر آئوٹ سورس کئے گئے کام کمپیوٹر سے متعلق ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کے لئے آن لائن کام تلاش کرنا نسبتاً زیادہ آسان ہے جو ویب ڈیویلپمنٹ ، گرافک ڈیزائننگ یا کمپیوٹر پروگرامنگ پر مہارت رکھتے ہیں۔
ہم یہاں چند ویب سائٹس کا ذکر کریں گے جہاں آئوٹ سورس کئے گئے پروجیکٹ حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

فری لانسر

http://www.freelancer.com
یہ ویب سائٹ اگرچہ بہت پرانی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود آج کل فری لانسرز کی پسندیدہ ویب سائٹس میں شمار ہوتی ہے۔ یہ دراصل کئی دوسری فری لانسسنگ ویب سائٹس کا مربع ہے۔ GetAFreelancer.com، EUFreelance.com، LimeExchange، Scriptlance وغیرہ چند ویب سائٹس ہیں جنہیں جمع کرکے فری لانسرڈاٹ کام بنائی گئی ہے۔ اسکرپٹ لانس سے ان کا معاہدہ حال ہی میں انجام پایا ہے۔ اس ویب سائٹ کے بارے شکایت کی جاتی ہے کہ یہ فری لانسرز کے اکائونٹ بلا وجہ بند کردیتی ہے اور انہیں اپنے پیسے بھی نکالنے کی اجازت نہیں دیتی۔ لیکن ویب سائٹ پر جس طرح فری لانسرز کام کررہے ہیںاور یہ ویب سائٹ ترقی کرہی ہے، وہ اس بات کی نفی کرتی ہے۔ یہاں کام کرنا نسبتاً آسان ہے جبکہ انٹرفیس بھی آسانی سے سمجھ میں آجانے والا ہے۔ رجسٹریشن کا عمل بھی مفت ہے۔

وی ورکر۔ رینٹ اے کوڈر

http://www.vworker.com
(نوٹ: اس ویب کو اب فری لانسر نے خرید لیا ہے)
وی ورکر (vWorker) آئوٹ سورس پراجیکٹس کی سب سے پرانی اور مشہور مارکیٹ ویب سائٹ ہے۔ اس سے پہلے اس ویب سائٹ کا نام RentACoder تھا جسے پچھلے سال تبدیل کرکے وی ورکر( ورچوئل ورکر) کردیا گیا۔ اس ویب سائٹ پر رجسٹریشن مفت ہے جب کہ پروجیکٹ حاصل کرنے کے لئے Bidلگانے پر بھی کوئی فیس نہیں ہے۔ اس ویب سائٹ کے کام کرنے کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ Employerیعنی وہ شخص جسے کچھ کام کروانا ہے، اپنے پروجیکٹ کی تفصیل وی ورکر پر جمع کرواتا ہے۔ آپ بطور ورچوئل ورکر اس پروجیکٹ پر بولی لگاتے ہیں کہ اتنے ڈالر میں آپ یہ کام کردیں گے۔ آپ کی لگائی ہوئی بولی صرف آپ اور پروجیکٹ کا مالک ہی دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کی لگائی ہوئی بولی مالک قبول کرلیتا ہے تو مالک بولی کی مالیت کے مطابق پیسے ویب سائٹ کے پاس جمع (Escrow) کروادیتا ہے۔ اب آپ پروجیکٹ کی تفصیل کے مطابق کام شروع کرتے ہیں اور اسے دی ہوئی ڈیڈ لائن کے اندر پورا کرتے ہیں۔

پروجیکٹ پورا ہونے کے بعد مالک اسے چیک کرتا ہے اور سب کام درست ہونے کی صورت میں آپ کے جمع کروائے ہوئے کام کو قبول کرلیتا ہے۔ کام کے قبول ہونے کے بعد وی ورکر آپ کے اکائونٹ میں پیسے جمع کردیتاہے جسے بعد میںمختلف طریقوں جیسے ویسٹرن یونین وغیرہ سے منگوا سکتے ہیں۔ شروع شروع میں آپ کو یہاں پروجیکٹ حاصل کرنے میں کافی تگ و دو کرنی پڑے گی کیوں کہ پہلے ہی لاکھوں لوگ یہاں کام کررہے ہیں۔ ان لاکھوں لوگوں میں سے آپ کی بولی کیوں منتخب کی جائے، یہ آپ نے خود ثابت کرنا ہے۔

یہاں آپ کو ہر طرح کے کام جیسے ٹائپنگ، لوگو ڈیزائننگ، پروگرامنگ، ویب سائٹ ڈیویلپمنٹ، ٹربل شوٹنگ مل جائیں گے۔ بہتر ہوگا کہ آپ ایک یا دو مخصوص طرز کے کاموں کی طرف اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور انہی پروجیکٹس پر بولی لگائیں جنہیں آپ کو بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔ ایسے پروجیکٹس جنھیں آپ پورا نہ کر پائیں نہ صرف یہ کہ آپ کی ریٹنگ برباد کرتے ہیں بلکہ بہت زیادہ خراب ریٹنگ کی صورت میں آپ کا اکائونٹ بھی ختم کردیا جاتا ہے جسے دوبارہ بنانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اس لئے زیادہ آمدنی کی کوشش میں آپ کہیں اپنے اکائونٹ سے بھی ہاتھ نہ دھوبیٹھیں۔

اس ویب سائٹ کے حوالے سے بہت سی دوسری تفصیلات طوالت سے بچنے کے لئے  ہم یہاں بیان نہیں کررہے۔ اس لئے اس ویب سائٹ پر موجود مختلف رہنماء مضامین پڑھیں اور سمجھ کر عمل کریں۔ شروع میں آپ کو کافی مشکلات درپیش آئیں گی مگر آپ کی ہمت اور لگن آپ کو یہاں ایک کامیاب اور منافع بخش کاروبار کا مالک بنا دے گی۔

او ڈیسک )اپ ورک(

http://www.odesk.com
یہ ویب سائٹ 2003ء میں بنائی گئی تھی اور ہماری ذاتی تجربے کے مطابق یہ پاکستانی سافٹ ویئر ہائوسز کی پسندیدہ ترین ویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ اکثر سافٹ ویئر  ہاؤس آئوٹ سورس کئے گئے کام یہیں سے حاصل کرتے ہیں۔ Alexaکے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویب سائٹس میں اس کا شمار 60واں ہے۔

وی ورکر اگرچہ فری لانسسنگ کے معاملے میں بانی کا درجہ رکھتی ہے لیکن اس پر پروجیکٹس کی مالیت او ڈیسک کے مقابلے میں خاصی کم ہوتی ہے۔ ایک ہزار ڈالر سے زائد مالیت کے پروجیکٹس وی ورکر پر کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں، اس کے مقابلے میں یہ او ڈیسک پر بہت عام ہیں۔ ساتھ ہی او ڈیسک پر ملنے والی اکثر پروجیکٹس لمبے عرصے کیلئے ہوتے ہیں۔ اس لئے ایک بڑا پروجیکٹ اگلے کئی ماہ یا سال تک آپ کیلئے مستقل آمدنی کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ او ڈیسک کی کامیابی کا راز اس کو ماڈرن ٹیکنالوجی، ڈیزائن اور تکنیک کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کرنا ہے۔ ہر روز سینکڑوں نئے پروجیکٹس او ڈیسک پر پیش کئے جاتے ہیں جنہیں انجام دینے کے لئے وی ورکر کی طرح آپ اپنی بولی لگاتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ مفت اکائونٹ کی صورت میں ایک ہفتے میں صرف بیس ہی پروجیکٹس پر بولی لگا سکتے ہیں۔ مزید پروجیکٹس پر بولی لگانے کیلئے یا تو آپ اگلے ہفتے کا انتظار کرتے ہیں یا پھر آپ کو فیس ادا کرکے اپنا اکائونٹ اپ گریڈ کرنا ہوتا ہے۔

وی ورکر کی طرح او ڈیسک پر بھی پروجیکٹس دو طرح کے ہوتے ہیں۔ اول وہ پروجیکٹس جن کے لئے آپ کو پہلے سے طے شدہ رقم (جو آپ نے بولی کی صورت میں لگائی تھی) ادا کی جاتی ہے جبکہ دوسرے پروجیکٹس وہ ہوتے ہیں جن کے لئے آپ فی گھنٹہ کے حساب سے پیسے وصول کرتے ہیں۔ اس طرح آپ جتنا کام کرتے ہیں، اسی کے مطابق آپ کو پیسے ملتے ہیں۔

یہاں بھی وی ورکر کی طرح لاکھوں کی تعداد میں لوگ پروجیکٹس حاصل کرنے کے لئے ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ اس لئے یہاں بھی اپنا کیریئر شروع کرنے کے لئے آپ کو کافی محنت کرنی ہوگی۔ شروع میں کوشش کریں کہ کم سے کم مالیت میں کام کرنے کی پیش کش کریں۔ اپنے Proposalمیں یہ باور کروائیں کہ کم قیمت ہونے کے باوجود آپ یہ کام بہترین اندازمیں کرسکتے ہیں۔ ایک بار جب آپ کی پروفائل اور ریٹنگ بہتر ہوجائے، پھر آپ اپنی مرضی کے مطابق پیسے وصول کریں۔ اچھی ریٹنگ اور پروفائل رکھنے والے افراد یا کمپنیاں او ڈیسک پر کام تلاش نہیں کرتیں، بلکہ کام کروانے والے خود انہیں ڈھونڈ کر کام کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔

ای لانس

http://www.elance.com

(نوٹ: اس ویب کو اب ’’اپ ورک‘‘ میں ضم کر دیا گیا ہے)

ای لانس بھی او ڈیسک کی طرح مشہور و معروف ویب سائٹ ہے۔ پاکستان میں دیکھی جانے والی سب سے زیادہ ویب سائٹس میں اس کا شمار 118واں ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی فری لانسر کس قدر سنجیدگی کے ساتھ یہاں کام کرنے میں مصروف ہیں۔صرف پاکستانی ہی نہیں، بنگلہ دیشی، بھارتی اور چھوٹی معیشتوں کے حامل کئی ممالک کے فری لانسر آپ کو یہاں اپنا روزگار کماتے نظر آئیں گے۔ کام کے اعتبار سے یہ ویب سائٹ بھی دوسروں مختلف نہیں۔

اس ویب سائٹ پر بھی دیگر کی طرح آپ پروجیکٹس حاصل کرنے کے لئے اپنے پروپوزل جمع کرواتے ہیں اور بولیاں لگاتے ہیں۔ ای لانس بھی کافی پرانی ویب سائٹ ہے جس کے کام کرنے کا طریقہ کار بھی باقی ویب سائٹس جیسا ہی ہے۔ پروجیکٹس پر کام کروانے والے یہاں Clientsکہلاتے ہیں جبکہ کام کرنے والے Contractors۔ ای لانس پر زیادہ تر کام پروگرامنگ اور ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے ملتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ای لانس پر کام کرنے والے 39فی صد کنٹریکٹرکی کمائی کا واحد ذریعہ ای لانس ہی ہے۔ یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ فری لانسنگ کس قدر قابل اعتماد کام ہے اور کس قدر منافع بخش بھی۔

ای لانس پر رجسٹریشن مفت ہے تاہم کچھ پابندیوں کے ساتھ۔ مکمل سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے لئے آپ کو ماہانہ فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔ لیکن کام شروع کرنے کے لئے مفت اکائونٹ ہی کافی ہے۔

گرو ڈاٹ کام

http://www.guru.com
یہ ویب سائٹ 1998ء سے آن لائن ہے تاہم پہلے اس کا نام eMoonlighter.com  تھا۔ 1999ء میں اسے باقاعدہ Guruکا نام دیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ اب تک اس ویب سائٹ پر کروڑوں ڈالرز کا کاروبار ہوچکا ہے۔ باقی فری لانسنگ ویب سائٹس کی طرح یہاں بھی پروجیکٹس کروانے والے لوگوں کی بھرمار ہے اور اسی طرح پروجیکٹ حاصل کرنے کے لئے ہزاروں پروگرامر، ڈیزائنر اور ڈیویلپر تیار بیٹھے ہیں۔ گرو کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ویب سائٹ فری لانسنگ کی فیلڈ میں نئے آنے والوں کے لئے بہترین نہیں ہے۔ اس ویب سائٹ کا صحیح معنوں میں فائدہ اسی وقت اٹھایا جاسکتا ہے جب کہ آپ ایک باقاعدہ سافٹ ویئر ہائوس کی طرح کام کررہے ہیں اور کئی پروگرامر اور ڈیویلپر آپ کے پاس موجود ہوں۔ اس کی فیس بھی قدرے زیادہ ہی ہے۔ شروع میں ہم یہی کہیں گے کہ گرو کے بجائے دوسری ویب سائٹس پر توجہ دیں اور اسے اس وقت تک کے لئے چھوڑ دیں جب تک کہ آپ فری لانسنگ کی الف ب سے اچھی طرح واقف نہیں ہوجاتے۔

فائیور

https://www.fiverr.com

یہ ایک مشہور و معروف ویب سائٹ ہے اور شاید آپ پہلے سے ہی اس سے واقف ہوں۔ اس ویب سائٹ پر ہر کام پانچ ڈالر میں کیا جاتا ہے۔ اگر آپ فری لانسر ہیں تو اس ویب سائٹ پر مفت رجسٹر ہو سکتے ہیں۔ مثلاً آپ گرافکس کا کام کرتے ہیں تو اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں کہ آپ پانچ ڈالر کے عوض لوگو ڈیزائن کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ کوئی کام کروانا چاہتے ہیں مثلاً کوئی آرٹیکل لکھوانا ہے، کوئی تصویر ایڈٹ کروانی ہے ، کوئی اینی میشن بنوانی ہے وغیرہ تب بھی یہاں موجود ہزاروں باصلاحیت افراد کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ اس ویب سائٹ کو آزما کر آپ سوچیں گے کہ کئی کام جن کی ہمارے ہاں بھاری فیس وصول کی جاتی ہے یہاں سے صرف پانچ ڈالر میں کروائے جا سکتے ہیں۔ کئی سالوں سے یہ ویب سائٹ کامیابی سے چل رہی ہے اور آئے دن اس کے صارفین میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 

اختتامیہ

تو قارئین آپ نے دیکھا کہ انٹرنیٹ سے پیسے کمانا بالکل ایک حقیقت ہے۔ اصل بات درست راستے پر چلنے کی ہے۔ فراڈ یا دھوکہ دہی کہ ذریعے شاید کوئی چند دن تو انٹرنیٹ پر پیسے بنا لے گا لیکن یہ عمل عارضی ہی ثابت ہوتاہے۔ اصل زندگی میں جس طرح آپ کاروبار کرتے ہیں، انٹرنیٹ پر کاروبار کرنا اس سے کچھ خاص مختلف نہیں ہے۔ آپ کی ایمانداری اور محنت آپ کو انٹرنیٹ پر اُس سے کہیں زیادہ کما کر دے سکتی ہے جتنا آپ عام زندگی میں کما سکتے ہیں۔ نیز، بات صرف پیسے کمانے تک محدود نہیں، غیر ملکیوں کے ساتھ کام کرنے سے آپ کو ایک نیا تجربہ حاصل ہوگا جو کہ اصل زندگی میں آپ کے بے حد کام آئے گا۔

اس سلسلے کی اگلی قسط پڑھیں جس میں بتایا گیا ہے کہ آن لائن کمائی گئی رقم کو پاکستان کن کن ذریعوں سے منگوایا جا سکتا ہے۔

(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ اگست 2012 میں شائع ہوئی)

پڑھیں اس سلسلے کی دوسری قسط