ڈارک ویب اور ڈیپ ویب کیا ہے، اس تک کیسے پہنچا جاتا ہے؟

25,858

ڈارک ویب

یہ نظام جو دراصل لوگوں کی حفاظت کے لئے بنایا گیا تھا، ایک انتہائی خطرناک کام کے لئے بھی استعمال ہونے لگا۔ انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم کے مجرموں تک پہنچنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروںکے لئے انٹرنیٹ پر مجرم کے نشانات ہی اس تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہوتے ہیں۔ TOR ان نشانات کو مکمل طور پر مٹا دیتا ہے ۔ اس لئے TOR استعمال کرنے والے مجرم تک پہنچنا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ہے۔ اسی چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جرائم پیشہ افراد نے TOR کو جرائم کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ انٹرنیٹ کا وہ حصہ جس تک پہنچنے کے لئے آپ کو TOR کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ جرائم کا گڑھ بن چکی ہے، ڈارک ویب کہلاتی ہے۔

ڈارک ویب ورلڈ وائیڈ ویب کا وہ بھدا چہرا ہے جہاں چرس، ہیروئن سمیت ہر قسم کی منشیات خریدی جاسکتی ہیں، کسی کو اغواء کرایا جاسکتا ہے، کسی کو قتل کرنے کے لئے قاتل کو کرائے پر لیا جاسکتا ہے، جعلی پاسپورٹ بنوائے جاسکتے ہیں، چوری کے کریڈٹ کارڈ خریدے جاسکتے ہیں، ہر قسم کے ہتھیار خریدے جاسکتے ہیں۔ الغرض، ہر وہ جرم جس کے بارے میں آپ تصور کرسکتے ہیں، وہ ڈارک ویب پر کیا جارہا ہے۔

ڈارک ویب تک رسائی کے لئے عام یو آر ایل نہیں بلکہ خاص قسم کے یو آر ایل ہوتے ہیں جن کے آخر میں .comیا .net جیسے ایکسٹینشن کے بجائے .onion کا ایکسٹینشن ہوتا ہے اور انہیں یاد رکھنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔مثال کے طور پر http://2vlqpcqpjlhmd5r2.onion ۔ ان ایڈریسز کے بارے میں انڈر گراؤنڈ فورمز اور دیگر ڈارک ویب سائٹس سے پتا چلتا ہے۔ سرچ انجنز ان کے قریب بھی نہیں پھٹک پاتے اس لئے ان کے بارے میں معمولی تعداد میں ہی لوگوں کو پتا چلتا

ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروںکے لئے مشکل یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جس کے پاس تھوڑی سے تکنیکی معلومات ہے اور وہ TOR کے استعمال سے واقف ہے، چند منٹوں میں دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر اپنی ڈارک ویب آن لائن کرسکتا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ TOR پروجیکٹ نے یہ کام بہت آسان بنا دیا ہے۔ ان کی ویب سائٹ سے TOR براؤزر سمیت کئی دیگر ready-to-use قسم کے ٹولز ڈاؤن لوڈ کئے جاسکتے ہیں جو صارف کی آن لائن شناخت کو مکمل طور پر خفیہ رکھنے میں اس کی مدد کرتے ہیں۔ ان ویب سائٹس کے بارے میں پتا بھی نہیں لگایا جاسکتا کہ انہیں کہاں ہوسٹ کیا گیا ہے، انہیں چلانے والا کون ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پولیس کو بھی ان ویب سائٹس کے بارے میں اس وقت پتا چلتا ہے جب ان سے ہونے والے جرائم بڑھنے لگتے ہیں۔

سلک روڈ ڈارک ویب کی ایک اچھی مثال تھی۔ اس ویب سائٹ پر شاید ہی کوئی منشیات کی کوئی ایسی قسم ہوجو کہ نہ خریدی جاسکتی ہو۔ یہ ویب سائٹ غیر قانونی دھندوں میں اس قدر مقبول اور ملوث ہوگئی کہ امریکی ایف بی آئی کو اسے بند کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگانا پڑ گیا ۔ کچھ عرصہ پہلے ہی سلک روڈ کے سرورز تک رسائی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی اور اسے بند کردیا گیا۔ لیکن چند ماہ بعد ہی سلک روڈ 2 منظر عام پر آگئی کیونکہ سلک روڈ کے بنانے والے نے اس کا سورس کوڈ کسی دوسری ڈارک ویب سائٹ پر شائع کردیا تھا۔ جس وقت سلک روڈ کو بند کیا گیا، اس وقت اس پر کئی ملین ڈالر مالیت کے بٹ کوائن موجود تھے جنہیں امریکی سرکار نے اپنے قبضے میں کرلیا۔

ڈارک ویب پر سلک روڈ جیسی سیکڑوں ویب سائٹس ہیں جہاں غیر قانونی اور بعض اوقات عجیب و غریب سروسز فراہم کی جاتی ہیں۔ ہماری نظر سے ایک ایسی ڈارک ویب بھی گزری ہے جہاں یورپ میں رہنے والے کسی شخص کو قتل کرنے کا آرڈر دیا جاسکتا ہے اور کام کی قیمت ہے صرف 20 ہزار یورو۔ کسی صحافی کی صورت میں یہ رقم 65 ہزار یورو ہوگی جبکہ کسی اہم سرکاری عہدے پر فائز آفیسر کی جان کی قیمت ایک لاکھ یورو ہے۔

ڈارک ویب کی اہم ویب سائٹ الفا بے بند کردی گئی

ایسی ہی ایک اور ویب سائٹ پر طبی تجربات کے لئے اغواء کئے گئے مرد ، خواتین اور بچوں کی فراہمی کی جاتی ہے۔ ان طبی تجربات جن کا عام حالات میں سوچا بھی نہیں جاسکتا، کے نتیجے میں اگر انسان کی موت واقع ہوجائے تو اس کی لاش کو ٹھکانے لگانے کا انتظام بھی ان کے پاس ہے۔ خدا جانے کہ یہ کتنی حقیقت اور کتنا افسانہ ہے، لیکن ڈارک ویب پر اس قسم کی اَن گنت سروسز فراہم کئے جانے کے وعدے کئے جاتے ہیں۔

چوری کے کریڈٹ کارڈ بیچنے کا کاروبار ڈارک ویب پر سب سے مقبول جرائم میں سے ایک ہے۔ یہاں ایک چوری کا کریڈٹ کارڈ پانچ سے ایک سو ڈالر فی کریڈٹ کارڈ فروخت ہوتا ہے۔ جبکہ ان کریڈٹ کارڈز کو استعمال بھی عموماً TOR کے ذریعے کیا جاتا ہے تاکہ استعمال کنندہ کی شناخت نہ ہوسکے۔

عام زندگی میں کئے جانے والے جرائم اور مجرم کا سراغ لگانے کے لئے جرم کے عوض لئے گئے پیسوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی شخص کے اکاؤنٹ میں اچانک بڑی رقم کی منتقلی یا اس کے اچانک کسی مہنگی چیز کی خریداری سے چوکنے ہوجاتے ہیں۔ لیکن ڈارک ویب پر صورت حال مختلف ہے۔ یہاں ڈالر، یورو یا کسی دوسری کرنسی میں رقم وصول نہیں کی جاتی۔ کیونکہ ایسی صورت میں مجرم تک پہنچانا بے حد آسان ہوجائے گا۔

ڈارک ویب کو جرائم کا گڑھ بنانے میں بڑا ہاتھ بٹ کوائن کا ہے۔ یہ وہ کرنسی ہے جس کا طبعی طور پر کوئی وجود نہیں۔ اسے کوئی چھاپتا ہے نہ اسے کوئی کنٹرول کرسکتا ہے۔ یہ بینکنگ نظام سے باہر کی چیز ہے اور اس کی قدر کا تعین طلب ورسد کے فرق کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ یہ نظام بہت پیچیدہ ہے اور اس پر نگرانی کا عمل انتہائی مشکل ہے۔ بٹ کوائن بھیجنے اور وصول کرنے والوں کی شناخت مکمل طور پر مخفی رہتی ہے جو اسے جرائم کے عوض رقم وصول کرنے کے لئے ایک آئیڈیل کرنسی بناتی ہے۔ (بٹ کوائن کے حوالے سے مزید جاننے کے خواہش مند کمپیوٹنگ کا ستمبر2013ء کا شمارہ ملاحظہ کرسکتے ہیں جس میں راقم کی اس موضوع پر ایک مفصل تحریر شائع ہوئی تھی)۔

ڈارک ویب پر ہونے والی تقریباً تمام ادائیگیاں بٹ کوائن کی صور ت میں ہوتی ہیں۔ چونکہ بٹ کوائن کو طبعی کرنسی جیسے ڈالر یا یورو میں بدلنے کے لئے کوئی خاص تگ و دو نہیں کرنی پڑتی۔ اس کے لئے کئی بٹ کوائن ایکسچینج موجود ہیں جو منٹوں میں بٹن کوائنز خرید کر اصل رقم بیچنے والے کو تھما دیتے ہیں۔ اس لئے بٹ کوائن وصول کرنے میں کسی کو کوئی پریشانی بھی نہیں ہوتی۔

ڈارک ویب سے چھٹکارا مستقبل قریب میں ناممکن ہے۔ ہوسکتا ہے آپ سوچیں کہ کیوں نہ TOR پر پابندی لگا دی جائے۔ اول تو یہ ممکن نہیں کیونکہ TOR وہ چھری ہے جسے سبزی کاٹنے کے لئے بنایا گیا تھا اور اب اگر اسے آلہ قتل کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے تو اس میں TOR قصور وار نہیں، دوسرا TOR کے علاوہ بھی اُس جیسے کئی پروجیکٹ کام کررہے ہیں۔ ڈارک ویب آج اگر TORکے سہارے زندہ ہے تو کل اسے کوئی اور سہارا مل جائے گا۔

انٹرنیٹ کو آزادی سے استعمال کرنے کا حق ہم سب کا ہے لیکن اس حق کو تسلیم کیا جانا ابھی باقی ہے۔ یہ امید رکھنا ہے کہ طاقتور حکومتیں سرویلنس کا عمل چھوڑ دیں گی، خام خیالی ہی ہے۔ ایسے میں TOR جیسے پروجیکٹ کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ لیکن ڈارک ویب نے اس پروجیکٹ کا جس قسم کا استعمال کیا ہے، وہ انتہائی دردناک ہے۔

یہ مضمون کمپیوٹنگ شمارہ اکتوبر 2014ء میں شائع ہوا